السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الحج عن الميت وقضاء ديونه عنه باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس کے قرضے ادا کرنے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَمَا تَرَى الْحَجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، ⦗٤٥٤⦘ فَحُجَّ عَنْهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِالْحَجِّ فَيُحَجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَتُؤْجَرُونَ "، قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ "، وَكَذَلِكَ فِي النَّذْرِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ هَذَا مُرْسَلٌ بَيْنَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَمَنْ فَوْقَهُ، وَمَعْنَاهُ مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُ.ابوالغوث بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے باپ کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے اور وہ بوڑھے ہیں، سواری کی طاقت نہیں رکھتے، آپ ان کی طرف سے حج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس کی طرف سے حج کیا جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے گھر والوں میں سے جو بھی فوت ہو گیا اور اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو، کیا اس کی طرف سے بھی حج کیا جائے گا؟“ آپ ﷺ نے کہا: ”ہاں، اور تمہیں بھی اجر دیا جائے گا۔“ اس نے کہا: ”اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزے رکھے جائیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذر میں اور مسجد کی طرف چلنے میں۔“