السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الرجل يقول: ثلث مالي إلى فلان يضعه حيث أراه الله، وما يختار للموصى إليه أن يعطيه أهل الحاجة من قرابة الميت حتى يغنيهم ثم رضعاءه ثم جيرانه باب: اس شخص کا بیان جو کہے: میرے مال کا ایک تہائی فلاں شخص کے لیے ہے وہ اسے وہاں خرچ کرے جہاں اللہ اسے سجھائے، اور وصی (جسے وصیت کی گئی ہو) کے لیے یہ پسندیدہ ہے کہ وہ میت کے حاجت مند رشتہ داروں کو دے یہاں تک کہ انہیں غنی کر دے، پھر دودھ شریک رشتہ داروں کو، پھر پڑوسیوں کو دے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا، وَكَانَ أَحَبُّ مَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢] قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢]، وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلِيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَائِحٌ "، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، " وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ " فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ.اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے انصاریوں میں زیادہ مالدار تھے، ان کا پسندیدہ مال بیرحاء تھا اور وہ مسجد کے سامنے تھا اور رسول اللہ ﷺ اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کا پانی پیتے تھے، جب یہ آیت ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] نازل ہوئی تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] اور بیشک میرے پسندیدہ اموال میں سے بیرحاء ہے اور وہ اللہ کے لیے صدقہ کیا ہے اور میں اللہ سے اس کی نیکی اور اس کا ذخیرہ ہونے کی امید کرتا ہوں۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! اسے رکھ لیں جہاں آپ کو اللہ حکم دے وقف کردینا۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شاباش بڑا نفع بخش مال ہے اور جو تو نے کہا میں نے اسے سن لیا اور میرے خیال میں اسے اپنے رشتہ داروں میں خرچ کر دو۔“ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”میں ایسا ہی کرتا ہوں، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ پس ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔