السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الوصية بالثلث باب: ایک تہائی مال کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: ذُكِرَ لَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْصَى بِخُمْسِ مَالِهِ وَقَالَ: " لَا أَرْضَى مِنْ مَالِي إِلَّا بِمَا رَضِيَ اللهُ بِهِ مِنْ غَنَائِمِ الْمُسْلِمِينَ " وَقَالَ قَتَادَةُ: وَكَانَ يُقَالُ: الْخُمُسُ مَعْرُوفٌ، وَالرُّبُعُ، جُهْدٌ وَالثُّلُثُ يُجِيزُهُ الْقُضَاةُ.حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں علم ہوا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے مال سے خمس کی وصیت کی اور فرمایا: میں اپنے مال سے راضی نہیں ہوں اس چیز کے مقابلے میں جس پر اللہ راضی ہیں مسلمانوں کی غنیمتوں میں سے، اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: خمس اچھا ہے اور ربع مشقت ہے اور ثلث اس کو قاضی نے جائز قرار دیا ہے۔