السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: ⦗٤٣٦⦘ حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بن عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: " لَمْ يُوصِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا بِثَلَاثٍ: أَوْصَى لِلرَّهَاوِيِّينَ بِجَادِّ مِائَةِ وَسْقٍ مِنْ خَيْبَرَ، وَأَوْصَى لِلدَّارِيِّينَ بِجَادِّ مِائَةِ وَسْقٍ مِنْ خَيْبَرَ، وَأَوْصَى لِلشَّيْبِيِّينَ بِجَادِّ مِائَةِ وَسْقٍ مِنْ خَيْبَرَ، وَأَوْصَى لِلْأَشْعَرِيِّينَ بِجَادِّ مِائَةِ وَسْقٍ مِنْ خَيْبَرَ، وَأَوْصَى بِتَنْفِيذِ بَعْثِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، وَأَوْصَى أَنْ لَا يُتْرَكَ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ دِينَانِ " هَذَا مُرْسَلٌ.عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کے وقت تین چیزوں کی وصیت کی: رہاویوں کے لیے خیبر کے سو عمدہ وسق کی وصیت کی، داریوں کے لیے خیبر کے سو عمدہ وسق کی وصیت کی، اہل شنیہ کے لیے سو عمدہ وسق خیبر کی وصیت کی اور اشعریوں کے لیے سو عمدہ وسق خیبر کی وصیت کی، اور یہ وصیت کی کہ ”اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے روانہ کیا جائے“ اور یہ وصیت کی کہ ”جزیرۃ العرب میں دو دین نہ چھوڑے جائیں“ یعنی صرف دین اسلام ہو، باقی تمام ادیان کو جزیرۃ العرب سے ختم کر دیا جائے۔
(3) باب
«مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَىٰ» ”اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے سلسلے میں جو مروی ہے“ ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾ [سورة النساء: 8]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ﴿وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا﴾ [سورة النساء: 8]