السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من قال بنسخ الوصية للأقربين الذين لا يرثون وجوازها للأجنبيين باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے ان قریبی رشتہ داروں کے لیے وصیت کے منسوخ ہونے کا کہا جو وارث نہیں ہوتے اور اجنبیوں کے لیے اس کے جواز کا قول کیا
حدیث نمبر: 12552
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ إِمْلَاءً، قَالُوا: أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوُسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى؟ قَالَ: لَا، قال: قُلْتُ: فَقَدْ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ، أَوْ قَالَ: أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ، قَالَ: " أَوْصَى بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " وَفِي رِوَايَةِ السُّلَمِيِّ: فَكَيْفَ كَتَبَ؟ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.حافظ ثناء اللہ
طلحہ بن مصرف فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے وصیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: لوگوں پر تو وصیت فرض کی گئی یا لوگوں کو تو وصیت کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں وصیت کی ہے۔