السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: نسخ الوصية للوالدين والأقربين الوارثين باب: والدین اور وارث ہونے والے قریبی رشتہ داروں کے حق میں وصیت کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ " ⦗٤٣٢⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَرَوَى بَعْضُ الشَّامِيِّينَ حَدِيثًا لَيْسَ مِمَّا يُثْبِتُهُ أَهْلُ الْحَدِيثِ؛ لِأَنَّ بَعْضَ رِجَالِهِ مَجْهُولُونَ، فرُوِّينَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا، وَاعْتَمَدْنَا عَلَى حَدِيثِ أَهْلِ الْمَغَازِي عَامَّةً أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَامَ الْفَتْحِ: " لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ "، وَإِجْمَاعُ الْعَامَّةِ عَلَى الْقَوْلِ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وصیت وارث کے لیے جائز نہیں ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض شامیوں نے ایک حدیث روایت کی ہے جسے محدثین ثابت نہیں مانتے، کیونکہ اس کے بعض راوی مجہول ہیں، پس ہم نے اسے نبی ﷺ سے منقطع روایت کیا ہے اور ہم نے عام اہل مغازی کی اس روایت پر اعتماد کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے سال فرمایا: ”وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں“ اور اس قول پر عام اہل علم کا اجماع ہے۔