السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: نسخ التوارث بالتحالف وغيره باب: قسموں کے معاہدے اور اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے ایک دوسرے کا وارث ہونے کے منسوخ ہونے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ} [النساء: ٣٣] فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَبَنَّوْنَ رِجَالًا غَيْرَ أَبْنَائِهِمْ وَيُوَرِّثُونَهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمْ أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ نَصِيبًا فِي الْوَصِيَّةِ، وَرَدَّ اللهُ الْمِيرَاثَ فِي الْمَوَالِي وَفِي الرَّحِمِ وَالْعَصَبَةِ، وَأَبَى أَنْ يَجْعَلَ لِلْمُدَّعِينَ مِيرَاثًا مِمَّنِ ادَّعَاهُمْ وَتَبَنَّاهُمْ، وَلَكِنْ جَعَلَ لَهُمْ نَصِيبًا فِي الْوَصِيَّةِ، فَكَانَ مَا تَعَاقَدُوا عَلَيْهِ فِي الْمِيرَاثِ الَّذِي رَدَّ اللهُ عَلَيْنَا فِيهِ أَمْرَهُمْ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [سورة النساء: 33] ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے بیٹوں کے علاوہ دوسروں کو منہ بولا بیٹا بنا لیتے تھے اور ان کو وارث بھی بناتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور حکم دیا کہ ان کے لیے وصیت کے ذریعہ منتخب کرلو اور اللہ تعالیٰ نے میراث کو غلاموں میں لوٹا دیا، رشتہ داروں میں اور عصبہ میں لوٹا دیا اور اس سے انکار کردیا کہ منہ بولے بیٹوں یا جو اپنے آپ کو منسوب کرلیں ان کے لیے وراثت مقرر کی جائے لیکن ان کے لیے وصیت میں حصہ رکھ دیا اور میراث میں وہ جو شرطیں لگاتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کردیا۔