السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: نسخ التوارث بالتحالف وغيره باب: قسموں کے معاہدے اور اس کے علاوہ دیگر طریقوں سے ایک دوسرے کا وارث ہونے کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 12529
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " آخَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ، وَوَرَّثَ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ، حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَى بِبَعْضٍ} [الأحزاب: ٦]، فَتَرَكُوا ذَلِكَ وَتَوَارَثُوا بِالنَّسَبِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور بعض کو بعض کا وارث بنایا یہاں تک کہ آیت ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] نازل ہوئی تو انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور انہوں نے نسبی رشتہ داروں کو وارث بنا دیا۔