السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: العول في الفرائض باب: فرائض (وراثت کے مسائل) میں عول (حصوں کے بڑھ جانے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَزُفَرُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَتَذَاكَرْنَا فَرَائِضَ الْمِيرَاثِ، فَقَالَ: " " تَرَوْنَ الَّذِي أَحْصَى رَمْلَ عَالِجٍ عَدَدًا، لَمْ يُحْصِ فِي مَالٍ نِصْفًا وَنِصْفًا وَثُلُثًا، إِذَا ذَهَبَ نِصْفٌ وَنِصْفٌ، فَأَيْنَ مَوْضِعُ الثُّلُثِ؟ " " فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، مَنْ أَوَّلُ مَنْ أَعَالَ الْفَرَائِضَ؟ قَالَ: " " عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " "، قَالَ: وَلِمَ؟ قَالَ: " " لَمَّا تَدَافَعَتْ عَلَيْهِ، وَرَكِبَ بَعْضُهَا بَعْضًا، " " قَالَ: وَاللهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِكُمْ، وَاللهِ مَا أَدْرِي أَيُّكُمْ قَدَّمَ اللهُ، وَلَا أَيُّكُمْ أَخَّرَ، قَالَ: " " وَمَا أَجِدُ فِي هَذَا الْمَالِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ أَنْ أقْسِمَهُ عَلَيْكُمْ بِالْحِصَصِ " "، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " " وَايْمُ اللهِ، لَوْ قَدَّمَ مَنْ قَدَّمَ اللهُ، وَأَخَّرَ مَنْ أَخَّرَ اللهُ، مَا عَالَتْ فَرِيضَةٌ " "، فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: وَأَيَّهُمْ قَدَّمَ وَأَيَّهُمْ أَخَّرَ؟ فَقَالَ: " " كُلُّ فَرِيضَةٍ لَا تَزُولُ إِلَّا إِلَى فَرِيضَةٍ فَتِلْكَ الَّتِي قَدَّمَ اللهُ، وَتِلْكَ فَرِيضَةٌ: الزَّوْجُ لَهُ النِّصْفُ، فَإِنْ زَالَ فَإِلَى الرُّبُعِ لَا يَنْقُصُ مِنْه، وَالْمَرْأَةُ لَهَا الرُّبُعُ، فَإِنْ زَالَتْ عَنْهُ صَارَتْ إِلَى الثُّمُنِ، لَا تَنْقُصُ مِنْهُ، وَالْأَخَوَاتُ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، وَالْوَاحِدَةُ لَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ الْبَنَاتُ كَانَ لَهُنَّ مَا بَقِيَ، فَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَخَّرَ اللهُ، فَلَوْ أَعْطَى مَنْ قَدَّمَ اللهُ فَرِيضَةً كَامِلَةً ثُمَّ قَسَمَ مَا يَبْقَى بَيْنَ مَنْ أَخَّرَ اللهُ بِالْحِصَصِ مَا عَالَتْ فَرِيضَةٌ " "، فَقَالَ لَهُ زُفَرُ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُشِيرَ بِهَذَا الرَّأْيِ عَلَى عُمَرَ؟ فَقَالَ: " " هِبْتُهُ وَاللهِ " "، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: فَقَالَ لِيَ الزُّهْرِيُّ: وَايْمُ اللهِ، لَوْلَا أَنَّهُ تَقَدَّمَهُ إِمَامُ هُدًى كَانَ أَمْرُهُ عَلَى الْوَرَعِ مَا اخْتَلَفَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ اثْنَانِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اور زفر بن اوس ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب کہ ان کی بینائی ختم ہو گئی تھی، ہم نے میراث کے حصوں کے بارے میں گفتگو کی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تم دیکھتے ہو وہ جس نے عالم کے ذرات کو شمار کیا ہے، کیا اس نے (حصوں کو) نہیں شمار کیا؟ مال میں نصف، نصف اور ثلث (کیسے ہو سکتے ہیں)؟ جب نصف اور نصف چلا گیا تو ثلث کہاں سے آیا؟ زفر نے کہا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! کون تھا جس نے سب سے پہلے عول کیا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ زفر نے کہا: کس لیے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب لوگ سوار ہو کر آنے لگے (مسائل بڑھ گئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تمہارے ساتھ کیا کروں؟ اور اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تم میں سے اللہ نے کس کو مقدم کیا ہے اور کس کو مؤخر کیا ہے؟ اور کہا: میں مال میں اس سے بہتر صورت نہیں پاتا کہ اس کو حصوں کے تناسب سے تقسیم کر دوں۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! اگر وہ اسے مقدم کرتے جس کو اللہ نے مقدم کیا تھا اور اسے مؤخر کرتے جس کو اللہ نے مؤخر کیا تھا تو حصوں میں عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے کہا: ان میں سے کس کو مقدم کیا اور کس کو مؤخر کیا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہر حصہ ایک دوسرے حصہ کی طرف (پھیر دیا جاتا) ہے؛ پس جس کو اللہ نے مقدم کیا وہ یہ ہے: خاوند کا حصہ نصف ہے، پس اگر وہ (نصف سے) زائل ہو جائے تو ربع ہے اور اس سے کم نہ ہو گا، اور عورت کے لیے ربع ہے، اگر (ربع) زائل ہو جائے تو ثمن ہے، اس سے کم نہ ہو گا، اور بہنوں کے لیے دو تہائی ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لیے نصف ہے، اگر ان کے ساتھ بیٹیاں بھی ہوں تو باقی ان کے لیے ہے، پس یہ وہ ہیں جن کو اللہ نے مؤخر کیا ہے؛ پس اگر وہ اسے پورا حصہ دے دیتے جس کو اللہ نے مقدم رکھا ہے، پھر باقی ماندہ ان میں تقسیم کر دیتے جن کو اللہ نے حصوں میں مؤخر رکھا ہے، تو عول نہ کرنا پڑتا۔ زفر نے ان سے کہا: آپ کو کس نے روکا کہ عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا اشارہ (مشورہ) دیتے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے ڈر گیا تھا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں، مجھے زہری نے کہا: اللہ کی قسم! اگر اس کو امامِ ہدیٰ مقدم نہ کرتے تو ان کا معاملہ ورع پر تھا۔ اہل علم میں سے کسی دو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں اختلاف نہیں کیا۔