حدیث نمبر: 12424
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ مِنْ كِتَابِهِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ تَقُولُ فِي الْجَدِّ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَا جَدَّ، أِيُّ أَبٍ لَكَ أَكْبَرُ؟ " فَسَكَتَ الرَّجُلُ فَلَمْ يُجِبْهُ وَكَأَنَّهُ عَيِيَ عَنْ جَوَابِهِ، فَقُلْتُ أَنَا: آدَمُ، قَالَ: " أَفَلَا تَسْمَعُ إِلَى قَولِ اللهِ يَا بَنِي آدَمَ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن معقل کہتے ہیں: ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: آپ دادے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کوئی دادا نہیں ہے، کون سا باپ تیرے لیے بڑا ہے؟ وہ آدمی خاموش ہو گیا، اسے کوئی جواب نہ آیا گویا کہ وہ جواب سے مایوس ہو گیا۔ عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے کہا: میں ہوں، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آدم ہیں۔ کیا تم نے اللہ کا یہ قول نہیں سنا: ﴿يَا بَنِي آدَمَ﴾ [سورة الأعراف: 26]؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12424
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»