السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: من لم يورث الإخوة مع الجد باب: اس شخص کے قول کے بیان میں جس نے دادا کے ساتھ بھائیوں کو وارث نہیں بنایا
حدیث نمبر: 12421
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٤٠٣⦘ عَتَّابٍ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ثنا عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طُعِنَ قَالَ: " إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ فِيَ الْجَدِّ رَأْيًا، فَإِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تَتَّبِعُوهُ فَاتَّبِعُوهُ "، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَكَ فَإِنَّهُ رُشْدٌ، وَإِنْ نَتَّبِعْ رَأْيَ الشَّيْخِ قَبْلَكَ فَنِعْمَ ذُو الرَّأْيِ كَانَ.حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم نے بیان کیا کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو زخمی کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں دادا کے بارے میں ایک رائے رکھتا ہوں، اگر تم دیکھتے ہو کہ اس کی پیروی کرو تو ضرور اس کی پیروی کرنا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ہم آپ کی رائے کی پیروی کریں تو اچھا ہے اور اگر ہم آپ سے پہلے والے شیخ کی رائے کی پیروی کریں تو وہ اچھی رائے والے تھے۔