السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الميراث بالولاء باب: ولاء (غلام آزاد کرنے کے تعلق) کی بنیاد پر وراثت ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 12389
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا مُحَمَّدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ لَا يُوَرِّثُ مَوَالِيَ مَعَ ذِي رَحِمٍ شَيْئًا، وَكَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: " إِذَا كَانَ ذُو رَحِمٍ ذُو سَهْمٍ فَلَهُ سَهْمُهُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْمَوَالِي، هُمْ كَلَالَةٌ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ رضی اللہ عنہ موالی کو ذی رحم رشتہ داروں کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور علی اور زید رضی اللہ عنہما دونوں کہتے تھے: جب ذو رحم حصہ دار ہوں تو ان کے لیے ان کا حصہ ہے اور باقی موالی کے لیے ہے، وہ کلالہ ہے۔