السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الميراث بالولاء باب: ولاء (غلام آزاد کرنے کے تعلق) کی بنیاد پر وراثت ملنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ فَرَأَى رَجُلًا يُبَاعُ، فَسَاوَمَ بِهِ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَاشْتَرَاهُ رَجُلٌ فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي اشْتَرَيْتُ هَذَا فَأَعْتَقْتُهُ، فَمَا تَرَى فِيهِ؟ قَالَ: " أَخُوكَ وَمَوْلَاكَ "، قَالَ: مَا تَرَى فِي صُحْبَتِهِ؟ قَالَ: " إِنْ شَكَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَشَرٌّ لَكَ، وَإِنْ كَفَرَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ وَشَرٌّ لَهُ "، قَالَ: مَا تَرَى فِي مَالِهِ؟ قَالَ: " إِنْ مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا فَلَكَ مَالُهُ " هَكَذَا جَاءَ مُرْسَلًا.سیدنا حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بقیع کی طرف گئے، ایک آدمی کو بکتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے اس کا سودا کیا۔ پھر اس کو چھوڑ دیا۔ اسے ایک آدمی نے خریدا اور آزاد کر دیا، پھر وہ نبی ﷺ کے پاس لایا اور کہا: میں نے اسے خریدا تھا، پھر آزاد کر دیا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تیرا بھائی ہے اور تیرا مولا ہے“، اس نے پوچھا: اس کی محبت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ تیرا شکر کرے تو اس کے لیے بہتر ہے اور تیرے لیے برا ہے اور اگر وہ تیرا انکار کرے تو تیرے لیے بہتر ہے اور اس کے لیے برا ہے“۔ اس نے اس کے مال کے بارے میں پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ فوت ہو جائے اور اس کا کوئی وارث نہ ہو تو وہ مال تیرا ہے“۔