السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث ابني عم أحدهما زوج والآخر أخ لأم باب: دو چچازاد بھائیوں کی وراثت جن میں سے ایک شوہر ہو اور دوسرا ماں شریک بھائی ہو
حدیث نمبر: 12379
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ: امْرَأَةٌ تَرَكَتِ ابْنَيْ عَمِّهَا، أَحَدُهُمَا زَوْجُهَا وَالْآخَرُ أَخُوهَا لِأُمِّهَا، فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ السُّدُسُ، وَهُمَا شَرِيكَانِ فِيمَا بَقِيَ "، وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: " لِلزَّوْجِ النِّصْفُ وَلِلْأَخِ مِنَ الْأُمِّ مَا بَقِيَ " قَالَ يَزِيدُ: بِقَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يُؤْخَذُ.حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ جو عورت چچا کے دو بیٹے چھوڑے ان میں سے ایک اس کا خاوند ہو اور دوسرا اس کا (اخیافی) بھائی ہو، حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق خاوند کے لیے نصف اور اخیافی بھائی کے لیے سدس ہے اور وہ دونوں باقی میں شریک ہوں گے، اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں خاوند کے لیے نصف اور باقی سارا اخیافی بھائی کے لیے ہے۔