السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الأخوات مع البنات عصبة باب: بیٹیاں موجود ہوں تو بہنیں عصبہ بن جاتی ہیں
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْإِمَامُ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَفَيَّاضُ بْنُ زُهَيْرٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَقَالَ: رَجُلٌ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ، فَقَالَ: " لِلِابْنَةِ النِّصْفُ، وَلَيْسَ لِلْأُخْتِ شَيْءٌ، مَا بَقِيَ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَضَى بِغَيْرِ ذَلِكَ، جَعَلَ لِلِابْنَةِ النِّصْفَ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " أَنْتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللهُ؟ " قَالَ مَعْمَرٌ: فَلَمْ أَدْرِ مَا وَجْهُ ذَلِكَ، حَتَّى لَقِيتُ ابْنَ طَاوُسٍ فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ} [النساء: ١٧٦]، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُلْتُمْ أَنْتُمْ لَهَا نِصْفٌ، وَإِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ قَالَ الشَّيْخُ: الْمُرَادُ بِالْوَلَدِ هَا هُنَا الِابْنُ بِدَلِيلِ مَا مَضَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عَمَّنْ بَعْدَهُ.ابو سلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اس نے کہا: ”ایک آدمی فوت ہو گیا ہے، اس نے بیٹی اور حقیقی بہن چھوڑی ہے۔“ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے کچھ نہیں ہے، باقی مال عصبہ کے لیے ہے۔“ اس آدمی نے کہا: ”حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے علاوہ فیصلہ کیا تھا، انہوں نے بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف دیا تھا۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”کیا تم اللہ سے زیادہ جانتے ہو؟“ معمر کہتے ہیں: مجھے اس کی وجہ کا علم نہ ہوا، میں طاؤس سے ملا، میں نے یہ حدیث زہری سے بیان کی تو طاؤس نے کہا: مجھے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [سورة النساء: 176] ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”تم کہتے ہو نصف اس کے لیے ہے اگرچہ اولاد بھی ہو۔“
شیخ فرماتے ہیں: یہاں ولد سے مراد ابن ہے، اس کی دلیل وہ ہے جو نبی ﷺ سے گزر چکی ہے اور بعد والوں سے بھی منقول ہے۔