السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: الأخوات مع البنات عصبة باب: بیٹیاں موجود ہوں تو بہنیں عصبہ بن جاتی ہیں
حدیث نمبر: 12331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ: " قَضَى فِينَا مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ فِي رَجُلٍ تَرَكَ ابْنَتَهُ وَأُخْتَهُ، فَأَعْطَى الِابْنَةَ النِّصْفَ، وَأَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ ".حافظ ثناء اللہ
اشعث بن ابی الشعثاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسود بن یزید رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے یمن میں ہمارے درمیان ایسے آدمی کا فیصلہ کیا جس نے بیٹی اور بہن چھوڑی تھی کہ بیٹی کے لیے نصف ہے اور بہن کو بھی نصف دیا۔
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسود بن یزید رحمہ اللہ نے یمن میں ہمارے درمیان فیصلہ کیا، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے بیٹی اور بہن چھوڑی تھی، آپ ﷺ نے ”بیٹی کو نصف دیا اور بہن کو بھی نصف دیا۔“