حدیث نمبر: 12329
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ قَالَ: أَتَى أَبَا مُوسَى رَجُلٌ يَسْأَلُهُ عَنِ امْرَأَةٍ تَرَكَتِ ابْنَتَهَا وَابْنَةَ ابْنِهَا وَأُخْتَهَا، فَقَالَ: لِابْنَتِهَا النِّصْفُ، وِلِأُخْتِهَا النِّصْفُ، وَلَيْسَ لَابْنَةِ ابْنِهَا شَيْءٌ، وَائْتِ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكَ مِثْلَ الَّذِي قُلْتُ لَكَ، فَأَتَى عَبْدَ اللهِ فَسَأَلَهُ فَحَدَّثَهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ {قَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ}، لَا بَلْ أَقْضِي فِيهَا بِمَا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِابْنَتِهَا النِّصْفُ، وَلِابْنَةِ ابْنِهَا السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِأُخْتِهَا " فَرَجَعَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: لَا تَسْأَلُونَا عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ

ہزیل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے بیٹی، پوتی اور بہن چھوڑی ہے، سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نصف بیٹی کے لیے ہے اور نصف بہن کے لیے ہے اور پوتی کے لیے کچھ نہیں ہے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، وہ بھی میری مثل کہیں گے۔“ وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی بات بھی ذکر کی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس وقت گمراہ ہوں گا اور ہدایت پر نہ ہوں گا بلکہ میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا: ”بیٹی کے لیے نصف، پوتی کے لیے سدس اور باقی ماندہ بہن کے لیے ہے۔““ وہ آدمی سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹا اور خبر دی تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک (ابن عباس رضی اللہ عنہما) جیسا عالم ہم میں ہے اس وقت تک ہم سے سوال نہ کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12329
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»