السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث الإخوة والأخوات لأب وأم أو لأب باب: سگے یا باپ شریک بھائیوں اور بہنوں کی وراثت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَصْحَابِهِ، وَعَنْ أَصْحَابِ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ: أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ وَأَخَوَاتٌ لِأَبٍ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ: " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَمَا بَقِيَ لِلْأَخَوَاتِ وَالْأَخِ مِنَ الْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ " لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ، وَلِلْأَخَوَاتِ مِنَ الْأَبِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ، وَمَا بَقِيَ لِلْأَخِ مِنَ الْأَبِ " أُخْتَانِ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدٍ: " لِلْأُخْتَيْنِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ بَيْنَ الْأُخْتِ وَالْأَخِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " وَفِي قَوْلِ عَبْدِ اللهِ: " لِلْأُخْتَيْنِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ الثُّلُثَانِ، وَمَا بَقِيَ لِلذَّكَرِ دُونَ الْأُنْثَى؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرْمِي أَنْ يَزِيدَ الْأَخَوَاتِ عَلَى الثُّلُثَيْنِ ".ابراہیم اور شعبی رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ حقیقی بہن اور علاتی بھائی بہن، سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور باقی ماندہ علاتی بہن بھائیوں کے درمیان ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق حقیقی بہن کے لیے نصف اور علاتی بہنوں کے لیے ثلثان اور باقی ماندہ علاتی بھائی کے لیے ہوگا۔ دو حقیقی بہنیں اور ایک علاتی بہن، سیدنا علی اور سیدنا زید رضی اللہ عنہما کے قول کے مطابق دو حقیقی بہنوں کے لیے ثلثان اور باقی علاتی بھائی بہنوں کے درمیان ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول میں دو حقیقی بہنوں کے لیے ثلثان اور باقی صرف مذکر کے لیے ہوگا کیونکہ ان کے نزدیک بہنوں کے لیے دو تہائی (ثلثان) سے زائد نہیں ہے۔