السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث أولاد الابن باب: پوتے اور پوتیوں کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12315
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَدِمَ مَسْرُوقٌ مِنَ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يُشْرِكُ بَيْنَهُمْ، فَقَالَ لَهُ عَلْقَمَةُ: أَكَانَ أَحَدٌ أَثْبَتَ عِنْدَكَ مِنْ عَبْدِ اللهِ؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنِّي قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَرَأَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ وَأَهْلَ الْمَدِينَةِ يُشْرِكُونَ بَيْنَهُمْ فِي رَجُلٍ تَرَكَ أَخَوَاتٍ لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَإِخْوَةً وَأَخَوَاتٍ لِأَبٍ، وَتَرَكَ بَنَاتٍ وَبَنَاتِ ابْنٍ وَبَنِي ابْنٍ ".حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسروق رحمہ اللہ مدینہ سے آئے اور وہ ان کو شریک کرتے تھے، علقمہ رحمہ اللہ نے انھیں کہا: کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ہے جو اسے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ثابت کرے؟ مسروق رحمہ اللہ نے کہا: نہیں، لیکن میں مدینہ میں گیا، میں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور مدینہ والوں کو دیکھا، وہ ایسے آدمی میں شریک کرتے تھے جس نے حقیقی بہنیں، بھائی، علاتی بہنیں، بیٹیاں، پوتیاں اور پوتے چھوڑے ہوں۔