السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث أولاد الابن باب: پوتے اور پوتیوں کی وراثت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ⦗٣٧٧⦘ أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْوَلَدِ أَنَّهُ إِذَا تُوُفِّيَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ فَتَرَكَ ابْنَةً وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ مِنَ الْإِنَاثِ كَانَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، فَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا فَرِيضَةَ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ بِفَرِيضَةٍ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بَيْنَهُمْ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " قَالَ: " وَمَنْزِلَةُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُمْ وَلَدٌ، كَمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ سَوَاءٌ، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ، وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ، فَإِنِ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ وَوَلَدُ الِابْنِ فَكَانَ فِي الْوَلَدِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الِابْنِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ ذَكَرًا وَكَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَأَكْثَرَ مِنَ الْبَنَاتِ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ لِبَنَاتِ الِابْنِ مَعَهُنَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنَ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ، أَوْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ، فَيَرُدُّ عَلَى مَنْ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ فَضْلًا إِنْ فَضَلَ، فَيُقَسِّمُونَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَتَرَكَ ابْنَةَ ابْنٍ فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ بَنَاتِ الِابْنِ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ فَلَهُنَّ السُّدُسُ تَتِمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِنَّ فَلَا سُدُسَ لَهُنَّ وَلَا فَرِيضَةَ، وَلَكِنْ إِنْ فَضَلَ فَضْلٌ بَعْدَ فَرِيضَةِ أَهْلِ الْفَرَائِضِ كَانَ ذَلِكَ الْفَضْلُ لِذَلِكَ الذَّكَرِ وَلِمَنْ بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ الْإِنَاثِ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، وَلَيْسَ لِمَنْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُنَّ".سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ اولاد کی وراثت (کا حکم یہ ہے کہ) جب کوئی مرد یا عورت فوت ہو جائے اور وہ ایک بیٹی چھوڑے تو اس کے لیے نصف (آدھا حصہ) ہے۔ اگر دو یا اس سے زیادہ (بیٹیاں) ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ اگر ان کے ساتھ مذکر (بیٹا) بھی ہو تو اس وقت تک ان میں سے کسی کو (مقررہ) حصہ نہ دیا جائے گا، جب تک (دیگر) شریکِ وراثت کا حصہ نہ دے دیا جائے۔ اس کے بعد جو (مال) باقی بچے گا، اس میں مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر حصہ ہو گا۔ راوی نے کہا: بیٹیوں کی اولاد کا مقام، جب ان کے علاوہ کوئی (وارث) نہ ہو تو وہ بیٹیوں کی طرح ہی ہیں، یعنی پوتے پوتیاں، بیٹے اور بیٹیوں کی مثل ہیں۔ وہ (پوتے پوتیاں) اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح (بیٹے اور بیٹیاں) وارث بنتے تھے اور پوتے اسی طرح (وراثت سے) روک دیے جائیں گے جس طرح بیٹے روکے گئے تھے۔ اگر بیٹا اور پوتا جمع ہو جائیں تو مذکر بیٹے کی موجودگی میں پوتوں میں سے کوئی بھی (وراثت میں) شریک نہ ہو گا۔ اگر مذکر اولاد نہ ہو اور دو یا اس سے زائد بیٹیاں ہوں تو پوتیوں کے لیے وراثت میں کوئی حصہ نہ ہو گا، سوائے اس کے کہ پوتیوں کے ساتھ کوئی مذکر (پوتا) ہو، وہ ان پوتیوں کے درجے میں ہو یا ان سے اوپر یا نیچے (کے درجے میں) ہو۔ پس وہ (بقیہ مال) ان کی طرف لوٹ جائے گا، یا اگر وہ کسی اور درجے میں ہوں تو (بقیہ مال) ان پر لوٹے گا جو اس کے درجے میں ہیں، یا اس سے اوپر کے درجے میں پوتیاں ہیں تو زائد مال ان کے لیے ہو گا۔ اگر مال زائد ہو تو وہ اسے ”مذکر کے لیے دو اور مونث کے لیے ایک“ کے تناسب سے تقسیم کریں گے۔ اگر کوئی زائد مال نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر اولاد میں صرف ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی یا اس کے درجے کی دیگر پوتیاں ہوں تو دو تہائی کی مقدار پوری کرنے کے لیے ان کے لیے چھٹا حصہ (سدس) ہے۔ اگر پوتیوں کے ساتھ پوتے ہوں اور وہ ان کے درجے میں ہوں تو ان کے لیے نہ چھٹا حصہ ہے اور نہ ہی کوئی مقررہ (فرض) حصہ، البتہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو زائد بچ جائے تو اس میں مذکر کو دو حصے اور مونث کو ایک حصہ ملے گا، یہ تقسیم ان کے درمیان ہو گی جو اس درجے میں ہوں، اور جو اس درجے میں نہیں ہیں ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر مال زائد نہ بچے تو ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔