❮
❯
حدیث نمبر: 12313
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْخَلَّالِيُّ، ثنا أَبُو يَعْلَى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ⦗٣٧٧⦘ أَنَّ مَعَانِيَ هَذِهِ الْفَرَائِضِ وَأُصُولَهَا عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَمَّا التَّفْسِيرُ فَتَفْسِيرُ أَبِي الزِّنَادِ عَلَى مَعَانِي زَيْدٍ، قَالَ: " وَمِيرَاثُ الْوَلَدِ أَنَّهُ إِذَا تُوُفِّيَ رَجُلٌ أَوِ امْرَأَةٌ فَتَرَكَ ابْنَةً وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ، فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ مِنَ الْإِنَاثِ كَانَ لَهُنَّ الثُّلُثَانِ، فَإِنْ كَانَ مَعَهُنَّ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا فَرِيضَةَ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ، وَيُبْدَأُ بِأَحَدٍ إِنْ شَرَكَهُمْ بِفَرِيضَةٍ فَيُعْطَى فَرِيضَتَهُ، فَمَا بَقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بَيْنَهُمْ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] " قَالَ: " وَمَنْزِلَةُ وَلَدِ الْأَبْنَاءِ، إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُمْ وَلَدٌ، كَمَنْزِلَةِ الْوَلَدِ سَوَاءٌ، ذَكَرُهُمْ كَذَكَرِهِمْ، وَأُنْثَاهُمْ كَأُنْثَاهُمْ، يَرِثُونَ كَمَا يَرِثُونَ، وَيَحْجُبُونَ كَمَا يَحْجُبُونَ، فَإِنِ اجْتَمَعَ الْوَلَدُ وَوَلَدُ الِابْنِ فَكَانَ فِي الْوَلَدِ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ مَعَهُ لِأَحَدٍ مِنْ وَلَدِ الِابْنِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ ذَكَرًا وَكَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَأَكْثَرَ مِنَ الْبَنَاتِ فَإِنَّهُ لَا مِيرَاثَ لِبَنَاتِ الِابْنِ مَعَهُنَّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ مِنَ الْمُتَوَفَّى بِمَنْزِلَتِهِنَّ، أَوْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ، فَيَرُدُّ عَلَى مَنْ بِمَنْزِلَتِهِ وَمَنْ فَوْقَهُ مِنْ بَنَاتِ الْأَبْنَاءِ فَضْلًا إِنْ فَضَلَ، فَيُقَسِّمُونَهُ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْوَلَدُ إِلَّا ابْنَةً وَاحِدَةً فَتَرَكَ ابْنَةَ ابْنٍ فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ مِنْ بَنَاتِ الِابْنِ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ فَلَهُنَّ السُّدُسُ تَتِمَّةَ الثُّلُثَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ بَنَاتِ الِابْنِ ذَكَرٌ هُوَ بِمَنْزِلَتِهِنَّ فَلَا سُدُسَ لَهُنَّ وَلَا فَرِيضَةَ، وَلَكِنْ إِنْ فَضَلَ فَضْلٌ بَعْدَ فَرِيضَةِ أَهْلِ الْفَرَائِضِ كَانَ ذَلِكَ الْفَضْلُ لِذَلِكَ الذَّكَرِ وَلِمَنْ بِمَنْزِلَتِهِ مِنَ الْإِنَاثِ، {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١]، وَلَيْسَ لِمَنْ هُوَ أَطْرَفُ مِنْهُنَّ شَيْءٌ، فَإِنْ لَمْ يَفْضُلْ شَيْءٌ فَلَا شَيْءَ لَهُنَّ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا خارجہ بن زید رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ اولاد کی وراثت (کا حکم یہ ہے کہ) جب کوئی مرد یا عورت فوت ہو جائے اور وہ ایک بیٹی چھوڑے تو اس کے لیے نصف (آدھا حصہ) ہے۔ اگر دو یا اس سے زیادہ (بیٹیاں) ہوں تو ان کے لیے دو تہائی ہے۔ اگر ان کے ساتھ مذکر (بیٹا) بھی ہو تو ان میں سے کسی کے لیے (مقررہ) حصہ نہیں، بلکہ اگر کوئی مقررہ حصے والا ان کے ساتھ شریک ہو تو پہلے اسے اس کا حصہ دیا جائے گا، اس کے بعد جو (مال) باقی بچے گا وہ ان کے درمیان ہو گا، مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر حصہ۔ راوی نے کہا: بیٹوں کی اولاد کا مقام، جب ان سے اوپر کوئی اولاد نہ ہو، بالکل اولاد کی طرح ہے، یعنی پوتے پوتیاں، بیٹے اور بیٹیوں کی مثل ہیں۔ وہ (پوتے پوتیاں) اسی طرح وارث بنیں گے جس طرح (بیٹے اور بیٹیاں) وارث بنتے ہیں اور اسی طرح (دوسروں کو وراثت سے) روکیں گے جس طرح وہ روکتے ہیں۔ اگر اولاد اور پوتے پوتیاں جمع ہو جائیں اور اولاد میں کوئی مذکر ہو تو اس کی موجودگی میں پوتے پوتیوں میں سے کسی کے لیے وراثت نہیں۔ اگر اولاد میں مذکر نہ ہو اور دو یا اس سے زائد بیٹیاں ہوں تو ان کے ساتھ پوتیوں کے لیے وراثت میں کوئی حصہ نہ ہو گا، سوائے اس کے کہ پوتیوں کے ساتھ کوئی مذکر ہو جو میت سے ان پوتیوں کے درجے میں ہو یا ان سے نیچے کے درجے میں ہو، تو وہ اپنے درجے والی اور اپنے سے اوپر والی پوتیوں پر بچا ہوا مال لوٹائے گا اگر کچھ بچے، اور وہ اسے ”مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر“ کے تناسب سے تقسیم کریں گے۔ اگر کچھ نہ بچے تو ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر اولاد میں صرف ایک بیٹی ہو اور ایک پوتی یا ایک ہی درجے کی کئی پوتیاں ہوں تو دو تہائی کی مقدار پوری کرنے کے لیے ان کے لیے چھٹا حصہ (سدس) ہے۔ اگر پوتیوں کے ساتھ ان کے درجے کا کوئی مذکر ہو تو ان کے لیے نہ چھٹا حصہ ہے اور نہ ہی کوئی مقررہ (فرض) حصہ، البتہ ذوی الفروض کو دینے کے بعد جو زائد بچ جائے وہ اس مذکر اور اس کے درجے کی مونث کے لیے ہو گا، مذکر کے لیے دو مونثوں کے برابر، اور جو ان سے نیچے کے درجے میں ہیں ان کے لیے کچھ نہیں۔ اگر کچھ زائد نہ بچے تو ان کے لیے کوئی حصہ نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12313
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»