السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: فرض الابنتين فصاعدا باب: دو یا دو سے زائد بیٹیوں کے مقررہ حصے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جِئْنَا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْأَسْوَافِ، وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: فَجَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِابْنَتَيْنِ لَهَا فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَاتَانِ ابْنَتَا ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، قُتِلَ مَعَكَ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقَدِ اسْتَفَاءَ عَمُّهُمَا مَالَهُمَا وَمِيرَاثَهُمَا كُلَّهُ، فَلَمْ يَدَعْ مَالًا إِلَّا أَخَذَ، فَمَا تَرَى يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَوَاللهِ لَا تُنْكَحَانِ أَبَدًا إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ "، فَنَزَلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ {يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ} [النساء: ١١] الْآيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْعُ لِيَ الْمَرْأَةَ وَصَاحِبَهَا "، فَقَالَ لِعَمِّهِمَا: " أَعْطِهِمَا الثُّلُثَيْنِ، وَأَعْطِ أُمَّهُمَا الثُّمُنَ، وَمَا بَقِيَ فَلَكَ " قَوْلُهُ: اسْتَفَاءَ مَالَهُمَا، مَعْنَاهُ: اسْتَرَدَّ وَاسْتَرْجَعَ حَقَّهُمَا مِنَ الْمِيرَاثِ، وَأَصْلُهُ مِنَ الْفَيْءِ وَهُوَ الرُّجُوعُ، قَوْلُهُ: ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطَأٌ، إِنَّمَا هُوَ سَعْدُ بْنُ الرَّبِيعِ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ ہم اسواف میں انصار کی ایک عورت کے پاس آئے۔ وہ خارجہ بن زید کی دادی تھی۔ راوی نے حدیث بیان کی اور کہا: ایک عورت دو بیٹیوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ دونوں بیٹیاں ثابت بن قیس کی ہیں، وہ آپ کے ساتھ احد میں شہید کر دیے گئے تھے اور ان کے چچا نے ان کا مال لے لیا ہے اور ان کی ساری وراثت بھی لے لی ہے، ان کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ پس آپ کا کیا خیال ہے اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! وہ مال کے بغیر کبھی نکاح بھی نہیں کر پائیں گی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ کریں گے“ تو سورہ نساء کی آیت نازل ہوئی: ﴿يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾ [سورة النساء: 11] رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت اور اس کے ساتھ والے (چچا) کو بلاؤ“ آپ ﷺ نے ان کے چچا سے فرمایا: ”ان کو دو تہائی دے دو اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو اور جو باقی بچے گا وہ تیرا ہے“۔
«قَوْلُهُ: اسْتَفَاءَ مَالَهُمَا» کا معنی ہے کہ ”وہ ان کی وراثت کے حق کی طرف لوٹا ہے“۔