السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم باب: نہ مسلمان کافر کا وارث ہوتا ہے اور نہ کافر مسلمان کا
حدیث نمبر: 12231
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّةً لَهُ يَهُودِيَّةً أَوْ نَصْرَانِيَّةً تُوُفِّيَتْ، وَأَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ ذَكَرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ: مَنْ يَرِثُهَا؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا " ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: " أَتُرَانِي نَسِيتُ مَا قَالَ لَكَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " ثُمَّ قَالَ: " يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن اشعث کی پھوپھی یہودیہ یا نصرانیہ تھی، وہ فوت ہوگئی۔ محمد بن اشعث نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا، انہوں نے پوچھا: اس کا وارث کون ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کا وارث اس کے دین والے ہیں، پھر وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے اس بارے میں سوال کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا خیال ہے کہ میں عمر کی بات بھول گیا ہوں جو تجھے کہی تھی، پھر فرمایا: اس کے وارث اس کے دین والے ہیں۔