حدیث نمبر: 12197
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: لَمَّا مَاتَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ قَعَدْنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ظِلِّ قَصْرٍ، فَقَالَ: " هَكَذَا ذَهَابُ الْعِلْمِ، لَقَدْ دُفِنَ الْيَوْمَ عِلْمٌ كَثِيرٌ ".
حافظ ثناء اللہ

عمار بن ابو عمار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ہم عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عمارت کے سائے میں بیٹھے تھے، انہوں نے کہا: یہ علم کا جانا ہے، تحقیق آج بہت زیادہ علم دفن کر دیا گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»