السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ترجيح قول زيد بن ثابت على قول غيره من الصحابة رضي الله عنهم أجمعين في علم الفرائض باب: علمِ فرائض میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کو دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال پر ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 12195
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ ⦗٣٤٨⦘ قَزَعَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أُتِيَ بِي إِلَيْهِ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: " تَعَلَّمْ كِتَابَ الْيَهُودِ؛ فَإِنِّي لَا آمَنُهُمْ عَلَى كِتَابِنَا"، قَالَ: فَمَا مَرَّ بِي خَمْسَةَ عَشَرَ حَتَّى تَعَلَّمْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْرَأُ كُتُبَهُمْ إِلَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مدینہ میں آئے تو مجھے ان کے پاس لایا گیا۔ میں نے آپ ﷺ کے سامنے کچھ پڑھا، آپ ﷺ نے مجھے کہا: ”تو یہود کی کتاب سیکھ، مجھے ان کے کاتبوں پر یقین نہیں۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پندرہ دن نہ گزرے تھے کہ میں نے اسے سیکھ لیا۔ پھر میں نبی ﷺ کے لیے لکھتا تھا اور ان کے خط بھی میں ہی نبی ﷺ کے سامنے پڑھتا تھا۔