حدیث نمبر: 12122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَهْطًا مِنَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا، فَنَزَلُوا بِحَيٍّ مِنَ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحِيِّ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ، قَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ نَزَلُوا بِكُمْ؛ لَعَلَّ يَكُونُ عِنْدَ بَعْضِهِمْ مَا يَنْفَعُ صَاحِبَكُمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَيُّهَا الرَّهْطُ، إِنَّ سَيِّدَنَا لَدِيغٌ فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَا يَنْفَعُ صَاحِبَنَا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: نَعَمْ، إِنِّي لَأَرْقِي، وَلَكِنِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَأَبَيْتُمْ أَنْ تُضَيِّفُونَا، وَمَا أَنَا بِرَاقٍ حَتَّى تَجْعَلُوا لِي جُعْلًا، فَجَعَلُوا لَهُ قَطِيعًا مِنَ الشَّاةِ، قَالَ: فَأَتَاهُ فَقَرَأَ عَلَيْهِ أُمَّ الْكِتَابِ وَيَتْفِلُ عَلَيْهِ، حَتَّى بَرَأَ كَأَنَّهُ نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ، قَالَ: فَأَوْفَاهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اقْسِمُوا، فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا؛ نَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَأْمِرُهُ، فَغَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مِنْ أَيْنَ عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ " وَقَالَ: " أَحْسَنْتُمْ، فَاقْتَسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَهُوَ فِي هَذَا كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّ الْجُعَلَ إِنَّمَا يَكُونُ مُسْتَحَقًّا بِالشَّرْطِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے اصحاب کا ایک گروہ سفر پر گیا، وہ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے پاس اترے، انہوں نے ان سے مہمان نوازی طلب کی لیکن انہوں نے مہمان نوازی کرنے سے انکار کر دیا، ان کے سردار کو کسی موذی جانور نے ڈس لیا، انہوں نے اس کے لیے کوشش کی لیکن اسے فائدہ نہ ہوا، ان کے بعض لوگوں نے کہا: اگر تم ان اترنے والوں (صحابہ رضی اللہ عنہم) کے پاس جاؤ تو ہو سکتا ہے ان میں کوئی ایسا ہو جو سردار کو نفع دے سکے، اب کچھ لوگوں نے کہا: ”اے قافلے والو! ہمارے سردار کو کسی موذی چیز نے ڈس لیا ہے، ہم نے اس کے لیے کوشش کی ہے، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جو ہمارے سردار کو آرام پہنچا سکے؟“ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: ”ہاں! میں دم کر سکتا ہوں، لیکن ہم نے تم سے مہمان نوازی چاہی تھی اور تم نے انکار کر دیا تھا، اس لیے میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا جب تک تم میرے لیے کوئی اجرت مقرر نہیں کر دیتے“، انہوں نے بکریوں کا کچھ حصہ معاوضہ طے کر لیا، وہ صحابی اس کے پاس آئے اور اس پر سورہ فاتحہ پڑھی اور اس پر (ہلکا سا) تھوکا، یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو گیا جیسے وہ رسی سے آزاد ہو گیا ہو، انہوں نے انہیں وہ پورا بدلہ دیا جو طے کیا گیا تھا، ان میں سے ایک نے کہا: ”اس (اجرت) کو تقسیم کر لو“، جس نے دم کیا تھا اس نے کہا: ”ایسا نہ کرو، یہاں تک کہ ہم نبی ﷺ کے پاس جا کر اس بارے میں دریافت کر لیں“، صبح کے وقت وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور قصہ بیان کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیسے معلوم کیا کہ وہ دم ہے؟“ اور فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، اسے تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ رکھنا۔“
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اجرت کا مستحق شرط کے ساتھ بن سکتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللقطة / حدیث: 12122
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2276
تخریج حدیث «بخاري 2276۔ مسلم 2201»