السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: لا تحل لقطة مكة إلا لمنشد باب: مکہ مکرمہ کا لقطہ صرف اعلان کرنے والے کے لیے حلال ہے
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ اللهُ، لَمْ يَحِلَّ فِيهِ الْقَتْلُ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ "، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ؛ فَإِنَّهُ لِبُيُوتِهِمْ، فَقَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ مَنْصُورٍ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: ”یہ شہر حرمت والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے حرمت والا بنایا ہے، اس میں قتل کرنا حلال نہیں ہے کسی کے لیے مجھ سے پہلے، اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا، پس وہ حرمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک حرمت والا بنایا ہے، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹوں کو کاٹا جائے اور نہ اس کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا جائے، مگر وہ شخص اٹھائے جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کے درختوں کو اکھاڑا جائے۔“ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مگر اذخر وہ گھروں کی چھتوں کے کام آتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اذخر کی اجازت ہے۔“