السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللقطة— گری پڑی چیز اٹھانے کا بیان
باب: ما جاء فيمن يعترف اللقطة باب: اس شخص کے متعلق جو لقطہ کو پہچان لے
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أُفْتِي الْمُلْتَقِطَ إِذَا عَرَفَ الْعِفَاصَ وَالْوِكَاءَ وَالْعَدَدَ وَالْوَزْنَ وَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ لَمْ يَدَعْ بَاطِلًا أَنْ يُعْطِيَهُ، وَلَا أُجْبِرُهُ فِي الْحُكْمِ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ تَقُومُ عَلَيْهَا كَمَا تَقُومُ عَلَى الْحُقُوقِ، ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَإِنَّمَا قَوْلُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا " وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُؤَدِّيَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا مَعَ مَا يُؤَدِّي مِنْهَا، وَلِيعْلَمَ إِذَا وَضَعَهَا فِي مَالِهِ أَنَّهَا اللُّقَطَةُ دُونَ مَالِهِ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ اسْتَدَلَّ عَلَى صِدْقِ الْمُعْتَرِفِ، وَهَذَا الْأَظَهَرُ، إِنَّمَا قَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّنَةُ عَلَى الْمُدَّعِي "، فَهَذَا مُدَّعِي، أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ عَشَرَةً أَوْ أَكْثَرَ وَصَفُوهَا كُلُّهُمْ فَأَصَابُوا صِفَتَهَا، أَلَنَا أَنْ نُعْطِيَهُمْ إِيَّاهَا يَكُونُونَ شُرَكَاءَ فِيهَا، وَلَوْ كَانُوا أَلْفًا أَوْ أَلْفَيْنِ وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّ كُلَّهُمْ كَاذِبٌ إِلَّا وَاحِدًا بِغَيْرِ عَيْنِهِ، وَلَعَلَّ الْوَاحِدَ أَنْ يَكُونَ كَاذِبًا لَيْسَ يَسْتَحِقُّ أَحَدٌ بِالصِّفَةِ شَيْئًا.ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ نے فرمایا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: جب (دعویٰ کرنے والا) تھیلی، بندھن، تعداد اور وزن پہچان لے اور اٹھانے والے کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اس نے باطل دعویٰ نہیں کیا تو میں اٹھانے والے کو فتویٰ دیتا ہوں کہ وہ اسے دے دے، لیکن فیصلے میں میں اسے مجبور نہیں کرتا مگر ایسی دلیل (گواہی) کے ساتھ جو اس پر قائم ہو جس طرح دیگر حقوق پر قائم ہوتی ہے۔ پھر انہوں نے کلام جاری رکھا یہاں تک کہ فرمایا: آپ ﷺ کا فرمان: ”اس کی تھیلی اور بندھن کو پہچان لو“، واللہ اعلم، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ وہ اس میں سے ادا کرے اس کے ساتھ اس کی تھیلی اور بندھن بھی ادا کرے، اور جب اسے اپنے مال میں رکھے تو جانتا رہے کہ یہ لقطہ ہے، اس کا اپنا مال نہیں۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے دعویٰ کرنے والے کی سچائی پر استدلال کیا جائے، اور یہی زیادہ ظاہر ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”دلیل مدعی کے ذمے ہے“، اور یہ مدعی ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر دس یا اس سے زیادہ لوگ سب اس کے اوصاف بیان کریں اور سب کے اوصاف درست ہوں تو کیا ہم وہ ان سب کو دے دیں کہ وہ اس میں شریک ہو جائیں؟ اور اگر وہ ہزار یا دو ہزار ہوں جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ان میں سے ایک غیر متعین شخص کے سوا سب جھوٹے ہیں، اور شاید وہ ایک بھی جھوٹا ہو، تو کوئی بھی محض اوصاف بیان کرنے سے کسی چیز کا مستحق نہیں بنتا۔