السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: العمرى باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے ہبہ کرنے) کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ قَالَ: قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ هِشَامٍ: إِنَّ هَذَا لَا يَدَعُنَا، يَعْنِي الزُّهْرِيَّ، نَأْكُلُ شَيْئًا إِلَّا أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْهُ، قُلْتُ: سَأَلْتُ عَنْهُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: إِذَا أَكَلْتَهُ فَهُوَ طَيِّبٌ، فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهِ وُضُوءٌ، وَإِذَا خَرَجَ فَهُوَ خَبِيثٌ عَلَيْكَ فِيهِ الْوُضُوءُ، فَقَالَ: مَا أُرَاكُمَا إِلَّا قَدِ اخْتَلَفْتُمَا، فَهَلْ فِي الْبَلَدِ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَقْدَمُ رَجُلٍ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، قَالَ: مَنْ؟ قُلْتُ: عَطَاءٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَيْنِ قَدِ اخْتَلَفَا عَلَيَّ فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُمْ أَكَلُوا مَعَ أَبِي بَكْرٍ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، فَقَالَ لِي: مَا تَقُولُ فِي الْعُمْرَى؟ قَالَ: قُلْتُ: حَدَّثَنِي النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ "، قَالَ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّهَا لَا تَكُونُ عُمْرَى حَتَّى تُجْعَلَ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، قَالَ: فَقَالَ لِعَطَاءٍ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: إِنَّ الْخُلَفَاءَ لَا يَقْضُونَ بِذَلِكَ، قَالَ عَطَاءٌ: بَلْ قَضَى بِهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فِي كَذَا وَكَذَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا بِالْإِسْنَادَيْنِ دُونَ الْقِصَّةِ.حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سلیمان بن ہشام نے مجھے بیان کیا کہ زہری رحمہ اللہ ہمیں نہیں چھوڑتے، ہم کوئی بھی چیز کھاتے ہیں تو ہمیں وضو کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا: میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: جب تو اس کو کھاتا ہے تو وہ پاک ہے، تیرے لیے اس میں وضو نہیں ہے اور جب وہ تجھ سے نکلے (پاخانہ کی صورت میں) تو وہ ناپاک ہے، اس میں تیرے اوپر وضو ہے۔ اس نے کہا: یہ کیا ہے کہ میں تم میں اختلاف کیوں دیکھتا ہوں؟ کیا شہر میں کوئی آدمی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، جزیرہ عرب میں ایک آدمی آیا ہے۔ اس نے پوچھا: کون؟ میں نے کہا: عطاء رحمہ اللہ۔ اس نے بلایا اور کہا: ان دونوں نے مجھ سے اختلاف کیا ہے، پس آپ کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے تھے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور وضو نہ کرتے تھے۔ اس نے مجھے کہا: آپ عمریٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ میں نے کہا: مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“ اس نے کہا: زہری رحمہ اللہ نے کہا کہ عمریٰ اس صورت میں ہے کہ تم وہ چیز اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دو۔ عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عمریٰ جائز ہے۔“ زہری رحمہ اللہ نے کہا: خلفاء اس طرح فیصلہ نہ کرتے تھے۔ عطاء رحمہ اللہ نے کہا: عبدالملک بن مروان نے اس کا اسی طرح فیصلہ کیا ہے۔