السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
باب: العمرى باب: عمریٰ (عمر بھر کے لیے ہبہ کرنے) کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَ: أَعْمَرَتِ امْرَأَةٌ بِالْمَدِينَةِ حَائِطًا لَهَا ابْنًا لَهَا، ثُمَّ تُوُفِّيَ وَتُوُفِّيَتْ بَعْدَهُ، وَتَرَكَ وَلَدًا وَلَهُ أُخْوَةٌ بَنُو الْمُعْمِرَةِ، فَقَالَ وَلَدُ الْمُعْمِرَةِ: رَجَعَ الْحَائِطُ إِلَيْنَا، وَقَالَ بَنُو الْمُعْمَرِ: بَلْ كَانَ لِأَبِينَا حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى طَارِقٍ مَوْلَى عُثْمَانَ، فَدَعَا جَابِرًا " فَشَهِدَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَى لِصَاحِبِهَا " فَقَضَى بِذَلِكَ طَارِقٌ، ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، وَأَخْبَرَ بِشَهَادَةِ جَابِرٍ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ: صَدَقَ جَابِرٌ، وَأَمْضَى ذَلِكَ طَارِقٌ، فَإِنَّ ذَلِكَ الْحَائِطَ لِبَنِي الْمُعْمَرِ حَتَّى الْيَوْمِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ.ابوزبیر نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مدینہ میں ایک عورت نے اپنا باغ اپنے بیٹے کو عطیہ دیا، پھر وہ بیٹا اور وہ عورت بھی فوت ہوگئی اور اس بیٹے کا ایک بیٹا اور اس کے بھائی (عمریٰ دینے والی عورت کے دوسرے بیٹے) بھی تھے۔“ عورت کے بیٹے نے کہا: وہ باغ ہماری طرف لوٹ آیا ہے اور آدمی کے بیٹے نے کہا: وہ باغ ہمارے باپ کا ہے، زندگی میں بھی موت کے بعد بھی۔ وہ اپنا معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے غلام طارق کی طرف لے گئے، اس نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور نبی ﷺ سے اس بارے میں گواہی مانگی۔ پھر طارق نے اس کے ساتھ فیصلہ کیا۔ پھر عبدالملک کو لکھا اور اس کی خبر دی اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی گواہی بھی بتائی۔ عبدالملک نے کہا: جابر نے سچ کہا اور طارق نے صحیح کیا، وہ باغ آج تک اس آدمی کی اولاد کے پاس ہے۔