السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقة على ما شرط الواقف من الأثرة والتقدمة والتسوية باب: واقف کی شرط کے مطابق صدقہ کرنے کا بیان، خواہ وہ کسی کو ترجیح دینے، مقدم رکھنے یا سب کو برابر رکھنے کی شرط ہو
حدیث نمبر: 11930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو يُوسُفَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَنَّ الزُّبَيْرَ جَعَلَ دُورَهُ صَدَقَةً، قَالَ: " وَلِلْمَرْدُودَةِ مِنْ بَنَاتِهِ أَنْ تَسْكُنَ غَيْرَ مُضِرَّةٍ وَلَا مُضَرٍّ بِهَا، فَإِنِ اسْتَغْنَتْ بِزَوْجٍ فَلَا شَيْءَ لَهَا " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمَرْدُودَةُ: الْمُطَلَّقَةُ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھروں کو صدقہ کیا اور فرمایا: لوٹائی جانے والی بیٹی کے لیے یہ ہے کہ وہ بغیر نقصان دیے رہے گی اور نہ اسے نقصان دیا جائے گا، اور اگر وہ خاوند کی وجہ سے مستغنی ہو جائے تو اس کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصمعی نے کہا: «الْمَرْدُودَةُ» کا مطلب «الْمُطَلَّقَةُ» (طلاق یافتہ) ہے۔