السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقة في الذرية ومن يتناوله اسم الذرية باب: ذرّیت (نسل) پر صدقہ کرنے کا بیان اور ہر اس شخص پر جس پر ذرّیت کے نام کا اطلاق ہوتا ہو
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا ⦗٢٧٥⦘ شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: دَخَلَ يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ عَلَى الْحَجَّاجِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ النَّحَّاسُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، ثنا عَاصِمُ ابْنُ بَهْدَلَةَ قَالَ: اجْتَمَعُوا عِنْدَ الْحَجَّاجِ، فَذُكِرَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ: لَمْ يَكُنْ مِنْ ذُرِّيَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ، فَقَالَ لَهُ: " كَذَبْتَ أَيُّهَا الْأَمِيرُ "، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ مِنْ مِصْدَاقٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ أَوْ لَأَقْتُلَنَّكَ، قَالَ " {وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى} [الأنعام: ٨٥]، فَأَخْبَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ عِيسَى مِنْ ذُرِّيَّةِ آدَمَ بِأُمِّهِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ مِنْ ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُمِّهِ، قَالَ: صَدَقْتَ "، فَمَا حَمَلَكَ عَلَى تَكْذِيبِي فِي مَجْلِسِي؟ قَالَ: " مَا أَخَذَ اللهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ {لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ} [آل عمران: ١٨٧]، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ١٨٧] " قَالَ: فَنَفَاهُ إِلَى خُرَاسَانَ.عاصم بن بہدلہ فرماتے ہیں کہ وہ سب حجاج کے پاس جمع ہوئے، حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا گیا، حجاج نے کہا: وہ نبی ﷺ کی ذریت نہیں ہیں، یحییٰ بن یعمر بھی پاس تھے، انہوں نے حجاج سے کہا: اے امیر! آپ نے جھوٹ بولا ہے، حجاج نے کہا: جو تو نے کہا ہے اس کی سچائی کے لیے کتاب اللہ سے دلیل لا ورنہ تجھے قتل کر دوں گا۔ یحییٰ نے کہا: ﴿وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ﴾ [سورة الأنعام: 84] «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ﴿وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ﴾ [سورة الأنعام: 85]، اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ عیسیٰ آدم کی ذریت ہیں اپنی ماں کے ساتھ اور حسین بن علی محمد ﷺ کی ذریت ہیں اپنی ماں (فاطمہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ، حجاج نے کہا: تو نے سچ کہا، لیکن میری مجلس میں میری تکذیب پر تجھے کسی چیز نے ابھارا ہے؟ یحییٰ نے کہا: اللہ نے انبیاء پر جو وعدہ لیا ہے اس نے ابھارا ہے: ﴿لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ﴾ [سورة آل عمران: 187] ”تم لوگوں کے لیے اس کو واضح کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ گے۔“ پس انہوں نے اسے پشت کے پیچھے ڈال دیا اور اسے تھوڑی قیمت کے بدلے بیچ ڈالا۔ حجاج نے یحییٰ کو خراسان کی طرف برطرف کر دیا۔