السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقة في ولد البنين والبنات ومن تناوله اسم الولد والابن منهم باب: بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد پر صدقہ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے ہر اس شخص پر صدقہ کرنا جس پر اولاد اور بیٹے کا اطلاق ہوتا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطَ، أنبأ شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ " فَقُلْتُ: حَرْبًا، فَقَالَ: " بَلْ هُوَ حَسَنٌ "، ثُمَّ وُلِدَ الْحُسَيْنُ فَسَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ " فَقُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ: " بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ "، فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرَاهُ فَقَالَ: " أَرُونِي ابْنِي، مَا سَمَّيْتُمُوهُ؟ " قُلْتُ: حَرْبًا، قَالَ: " بَلْ هُوَ مُحْسِنٌ "، ثُمَّ قَالَ: " سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ: شَبَّرَ وَشَبِيرَ وَمُشَبَّرَ " رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " إِنِّي سَمَّيْتُ بَنِيَّ هَؤُلَاءِ بِتَسْمِيَةِ هَارُونَ بَنِيهِ "، وَرُوِيَ فِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے ان کا نام حرب رکھا، جب آپ ﷺ تشریف لائے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے کیا نام رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں بلکہ وہ حسن ہے۔“ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ وہ حسین ہے۔“ جب تیسرا بیٹا پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ ﷺ اسے دیکھنے آئے تو فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میرا بیٹا، تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟“ میں نے کہا: حرب۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ محسن ہے۔“ پھر فرمایا: ”میں نے ان کے نام رکھے ہیں، ہارون، شبر، شبیر اور مبشر کی اولاد والے نام۔“