السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقة في ولد البنين والبنات ومن تناوله اسم الولد والابن منهم باب: بیٹوں اور بیٹیوں کی اولاد پر صدقہ کرنے کا بیان، نیز ان میں سے ہر اس شخص پر صدقہ کرنا جس پر اولاد اور بیٹے کا اطلاق ہوتا ہو
حدیث نمبر: 11924
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَلَمَّا رَآهُمَا نَزَلَ فَأَخَذَهُمَا، ثُمَّ صَعِدَ فَوَضَعَهُمَا فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ قَالَ: " صَدَقَ اللهُ {إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ} [التغابن: ١٥]، رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى أَخَذْتُهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، اسی دوران سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آئے، وہ سرخ قمیصیں پہنے ہوئے تھے، ٹھوکر کھا کر گرتے تھے اور کھڑے ہوجاتے تھے، جب آپ ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ ﷺ (منبر) سے اترے، ان دونوں کو پکڑا، پھر منبر پر چڑھ گئے اور ان دونوں کو اپنی گود میں لے لیا، پھر فرمایا: ”اللہ نے سچ کہا ہے: ﴿بیشک تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں﴾ [سورة التغابن: 15]، میں نے ان دونوں کو دیکھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اس لیے میں نے ان کو پکڑ لیا۔“