السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوقف— راہ الہی میں وقف سے متعلقہ احادیث
باب: الصدقة في الأقربين باب: قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کے بیان میں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي خَالِي مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَتْ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بِئْرٌ تُسَمَّى بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ كَانَ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢]، قَالَ: قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ اللهَ يَقُولُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: ٩٢]، وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِي إِلِيَّ بَيْرُحَاءُ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ للَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ مَالٌ رَائِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الْأَقْرَبِينَ "، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ أَوْ بَنِي عَمِّهِ قَالَ إِسْمَاعِيلُ: يَعْنِي بِالْمَالِ الرَّائِحِ الَّذِي يَغْدُو بِخَيْرٍ وَيَرُوحُ بِخَيْرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ..سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ مدینہ کے انصار میں سے زیادہ مالدار تھے اور ان کے پسندیدہ اموال میں سے «بِئْرُ بَيْرَحَاءَ» ”بئر بیرحاء“ تھا اور وہ مسجد کی طرف تھا، رسول اللہ ﷺ اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کے پاکیزہ پانی کو پیتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] ”تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کر لو۔“ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ فرماتے ہیں: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] اور میرا محبوب مال «بِئْرُ بَيْرَحَاءَ» ”بئر بیرحاء“ ہے۔ وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں اس کی نیکی اور اس کے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذخیرہ بن جانے کا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! اسے رکھ لیں اور جہاں اللہ آپ کو حکم دیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ «مَالٌ رَابِحٌ» ”راحت دینے والا مال“ ہے اور میں نے سنا جو تو نے کہا۔ میرا خیال ہے کہ تو اسے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دے۔“ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں (ایسا ہی) کروں گا اے اللہ کے رسول ﷺ!“ پھر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد میں تقسیم کر دیا۔
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: راحت والا مال وہ ہے جو صبح بھی خیر سے اور شام بھی خیر سے ہو۔