السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: القوم يختلفون في سعة الطريق المئتاء إلى ما أحبوه باب: جب لوگ کسی عام گزرگاہ کی چوڑائی کے بارے میں اختلاف کریں جس کی طرف جانا وہ پسند کرتے ہوں
حدیث نمبر: 11860
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ الْخِرِّيتِ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْجَارَ يَضَعُ جُذُوعَهُ أَوْ خَشَبَهُ فِي حَائِطِ جَارِهِ إِنْ شَاءَ وَإِنْ أَبَى، وَسَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى إِنْ تَنَازَعَ النَّاسُ فِي طُرُقِهِمْ جُعِلَتْ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ: ”ہمسایہ اپنی شہتیر اپنے ہمسائے کی دیوار پر رکھ سکتا ہے، اگر وہ چاہے، اگرچہ وہ (ہمسایہ) انکار کرے۔“
اور سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”اگر لوگ راستے میں جھگڑا کریں تو سات ہاتھ راستہ مقرر کر لو۔“