السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن منع فضل الماء باب: ضرورت سے زائد پانی کو روکنے کی ممانعت کے بیان میں
حدیث نمبر: 11845
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ بْنِ سَهْلٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ عَلَى مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ، وَرَجُلٌ حَلَفَ عَلى يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَنَّهُ أَعْطَى بِسِلْعَتِهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى وَهُوَ كَاذِبٌ، وَرَجُلٌ مَنَعَ فَضْلَ مَاءٍ؛ فَإِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَقُولُ: الْيَوْمَ أَمْنَعُكَ فَضْلِي كَمَا مَنَعْتَ فَضْلَ مَا لَمْ تَعْمَلْ يَدَاكَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آدمی ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف (نظرِ رحمت سے) دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: ایک آدمی جو جھوٹی قسم سے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے۔ دوسرا وہ آدمی جو عصر کی نماز کے بعد قسم اٹھائے کہ اسے اپنے سامان کی قیمت اس سے زیادہ مل رہی تھی جتنی واقعی ملی اور وہ جھوٹا ہے اور وہ آدمی جو زائد پانی روک دے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آج میں تجھ سے اپنا فضل روک لوں گا جس طرح تو نے اس چیز کا زائد حصہ روکا جسے تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا۔“