السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما جاء في مقاعد الأسواق وغيرها باب: بازاروں اور دیگر مقامات پر بیٹھنے کی جگہوں کے متعلق جو احکام مروی ہیں
حدیث نمبر: 11840
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، ثنا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ تَمَّامِ بْنِ نَجِيحٍ، عَنْ كَعْبٍ الْإِيَادِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، فَقَامَ فَأَرَادَ الرُّجُوعَ نَزَعَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ، فَيَعْرِفُ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ فَيَثْبُتُونَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب بیٹھتے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھتے اور آپ ﷺ جب کھڑے ہوتے اور واپس آنے کا ارادہ ہوتا تو آپ ﷺ اپنے جوتے یا کوئی اور چیز اس جگہ رکھ دیتے، صحابہ رضی اللہ عنہم سمجھ جاتے اور جم کر بیٹھے رہتے۔