السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: ما لا يجوز إقطاعه من المعادن الظاهرة باب: ظاہری کانوں میں سے جنہیں بطور جاگیر عطا کرنا جائز نہیں ان کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ⦗٢٤٨⦘ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ، وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَقَدِمَ صَاحِبِي، تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَنِي بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ، فَقَالَ: " اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ "، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الْأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ، إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ، مُقَيَّدُ الْجَمَلِ، وَمَرْعَى الْغَنَمِ، وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَمْسِكْ يَا غُلَامُ، صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ، وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ ".صفیہ اور دحیبہ رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ ان کی دادی رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، انہوں نے کہا: میرے صاحب یعنی حریث بن حسان رضی اللہ عنہ بنی بکر بن وائل کی طرف سے وفد کی صورت میں آئے، اسلام پر بیعت کی، پھر کہا: یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے اور بنی تمیم کے درمیان اس صحرا کے بارے میں لکھ دیں کہ وہ ہماری طرف تجاوز نہ کریں، الا یہ کہ کوئی مسافر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے غلام! صحرا کے بارے میں لکھ دو۔“ جب میں نے اس کو دیکھا کہ اس کو میرے لیے لکھنے کا حکم ہوا ہے تو اس نے مجھے غور سے دیکھا اور وہ میرا وطن اور میرا گھر تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے آپ سے زمین کے برابر ہونے کا سوال نہیں کیا، وہ تو صحرا ہے، اونٹوں اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور ان کے بیٹے بھی پاس ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے غلام! ٹھہر جا، مسکینہ نے سچ کہا، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، پانی اور درخت وغیرہ میں وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔“