السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: إقطاع الموات باب: بنجر زمینیں جاگیر کے طور پر دینے (اقطاع) کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ، أَخْبَرَنِي شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَقْطَعَهُ أَرْضًا " قَالَ: فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ: " أَنْ أَعْطِهَا إِيَّاهُ "، أَوْ قَالَ: " أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ "، قَالَ: فَقَالَ لِي مُعَاوِيَةُ: أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ، فَقُلْتُ: لَا تَكُنْ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ، قَالَ: فَقَالَ: أَعْطِنِي نَعْلَيْكَ، فَقُلْتُ: انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ، قَالَ: وَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ، فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، قَالَ: فَذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ. قَالَ سِمَاكٌ: قَالَ وَائِلٌ: وَدِدْتُ أَنْ كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدِيَّ.علقمہ بن وائل رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بطور جاگیر زمین عطا کی۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو میرے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے دے دیں یا مجھے نشان لگوا دیں۔ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنا ردیف بناؤ۔ میں نے کہا: آپ بادشاہوں کے ردیف نہیں بن سکتے، پھر کہا: مجھے اپنے جوتے دو۔ میں نے کہا: آپ اونٹنی کے سائے میں چلو۔ کہتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو میں ان کے پاس آیا، انہوں نے مجھے چارپائی پر بٹھایا۔ پھر مجھے یہ حدیث یاد کرائی۔ سماک راوی کہتے ہیں: سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پسند کیا کہ میں ان کو آگے بٹھاؤں۔