السنن الكبرى للبيهقي
كتاب إحياء الموات— غیرآباد زمین کو آباد کرنے اور پانی کے حق کا بیان
باب: من أحيا أرضا ميتة فهي له بعطية رسول الله صلى الله عليه وسلم دون السلطان باب: ”جس شخص نے کوئی بنجر زمین آباد کی تو وہ اسی کی ہے“، یہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے عطیہ ہے، اس میں حکمران کا دخل نہیں۔
حدیث نمبر: 11780
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا زَمْعَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْعِبَادُ عِبَادُ اللهِ، وَالْبِلَادُ بِلَادُ اللهِ، فَمَنْ أَحْيَا مِنْ مَوَاتِ الْأَرْضِ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بندے اللہ کے بندے ہیں اور شہر اللہ کے شہر ہیں۔ پس جس نے بنجر زمین آباد کی وہ اسی کی ہے اور ظالم رگ والے کے لیے کوئی حق نہیں ہے۔“