حدیث نمبر: 11741
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، ثنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " فَلِذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَتْرُكُ كِرَاءَ أَرْضِهِ، فَلَمْ يَكُنْ يُكْرِيهَا لَا بِذَهَبٍ وَلَا بِوَرِقٍ وَلَا بِشَيْءٍ، فَأَخَذَ بِذَلِكَ مِنْ فُتْيَا رَافِعٍ أُنَاسٌ، وَتَرَكَهُ آخَرُونَ، فَأَمَّا الْمُعَامَلَةُ عَلَى الشَّطْرِ أَوِ الثُّلُثَيْنِ أَوْ مَا اصْطَلَحُوا عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ حِينَ أَفَاءَ اللهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عَلَى الشَّطْرِ، وَذَلِكَ أَطْيَبُ أَمْرِ الْأَرْضِ وَأَحَلُّهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا وَزَعَمَ أَنَّ مَا ثَبَتَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا حُجَّةَ فِي قَوْلِ أَحَدٍ دُونَهُ، وَحَدِيثُ رَافِعٍ حَدِيثٌ ثَابِتٌ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى نَهْيِهِ عَنِ الْمُعَامَلَةِ عَلَيْهَا بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، إِلَّا أَنَّهُ أَسْنَدَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ مَرَّةً، وَأَرْسَلَهُ أُخْرَى، وَاسْتَقْصَى فِي رِوَايَتِهِ مَرَّةً، وَاخْتَصَرَهَا أُخْرَى، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ كَمَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، وَحَدِيثُ الْمُعَامَلَةِ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ مَقُولٌ بِهِ إِذَا كَانَ الزَّرْعُ بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّخْلِ، وَفِي ذَلِكَ جَمْعٌ بَيْنَ الْأَخْبَارِ الْوَارِدَةِ فِيهِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

زہری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ زمین سونے اور چاندی کے عوض کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اپنے بدری چچوں سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”زمین کرایہ پر دینے“ سے منع فرمایا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی وجہ سے زمین کرایہ پر دینے سے چھوڑ دی۔ وہ سونے، چاندی وغیرہ کو کسی چیز کے بدلے نہ دیتے تھے۔ (حسن) بعض لوگوں نے رافع رضی اللہ عنہ کے فتوے پر عمل کیا اور بعض نے چھوڑ دیا۔ رہا معاملہ نصف، دو تہائی یا جو وہ طے کرتے تھے، پس نبی ﷺ نے خیبر کے یہود کو نصف پر مقرر کیا جب اللہ نے مسلمانوں کو غنیمت عطا کی اور یہ زمین کا اچھا حل ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس نے پہلی بات کہی اور یہ گمان کیا کہ نبی ﷺ سے اس بارے میں کچھ ثابت نہیں تو اس نے قبول کر لیا اور آپ ﷺ کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں ہے اور رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث نبی ﷺ سے ثابت ہے اور اس میں پیداوار پر کرایہ لینے کی نہی وارد ہوئی ہے اور حدیثِ جابر رضی اللہ عنہ کی جس میں خیبر کے پھلوں اور اناج کے نصف کا معاملہ ہے، اس کو اس پر محمول کریں گے کہ وہ پھل کے واضح ہونے کے وقت تھا اور یہی تطبیق کی ایک صورت ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المزارعة / حدیث: 11741