السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المزارعة— مزارعت یعنى کھیتى کى بٹائى کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن المخابرة والمزارعة باب: مخابرہ اور مزارعہ (مخصوص شرائط پر کھیتی باڑی کی شراکت) کی ممانعت کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 11698
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ: سَمِعَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلَا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا حَتَّى زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَتَرَكْنَاهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم بٹائی پر زمین کا معاملہ کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ”اس سے منع کیا ہے“ تو ہم نے اسے چھوڑ دیا۔