السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: كسب الرجل وعمله بيديه باب: آدمی کی اپنی کمائی اور اس کے اپنے ہاتھوں سے کام کرنے (کی فضیلت) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفُ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خُفِّفَ عَلَى دَاوُدَ الْقُرْآنُ، فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ تُسْرَجُ، فَكَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مِنْ قَبْلِ أَنَ تُسْرَجَ دَابَّتُهُ، وَكَانَ لَا يَأْكُلُ إِلَّا مِنْ عَمَلِ يَدَيْهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ مُوسَى عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ آخِرَ الْخَبَرِ. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَإِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَوَّلَ الْخَبَرِ. وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا عُمَّالَ أَنْفُسِهِمْ، وَفِي رِوَايَةٍ: كَانُوا يُعَالِجُونَ أَرَضِيهِمْ بِأَيْدِيهِمْ وَرُوِّينَا عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ قَيْنًا وَرُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي قِصَّةِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ دَفَعَهُ إِلَى أُمِّ سَيْفٍ، امْرَأَةِ قَيْنٍ بِالْمَدِينَةِ وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ الْمِنْبَرِ، بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ: " أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ " وَعَنْ سَهْلٍ فِي الْمَرْأَةِ الَّتِي جَاءَتْ بِبُرْدَةٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو شُعَيْبٍ، وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ، وَفِي رِوَايَةٍ: قَصَّابٌ، فَقَالَ: اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ تَحْرِيمِ مَكَّةَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِلَّا الْإِذْخَرَ؛ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُيُوتِنَا، قَالَ: " إِلَّا الْإِذْخَرَ " وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ، وَلَوْ عَلِمَهُ خَبِيثًا لَمْ يُعْطِهِ وَفِي كُلِّ هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِاكْتِسَابِ بِهَذِهِ الْحِرَفِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا، وَقَدْ مَرَّ فِي الْكِتَابِ إِسْنَادُ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهَا، أَوْ سَيَمُرُّ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَفِي الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الَّذِي:.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”داؤد (علیہ السلام) پر زبور کی تلاوت آسان کر دی گئی تھی۔ چنانچہ وہ اپنی سواری پر زین کسنے کا حکم دیتے تھے اور زین کسی جانے سے پہلے ہی پوری زبور پڑھ لیتے تھے اور وہ صرف اپنے ہاتھوں کی کمائی ہی کھاتے تھے۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کام کرنے والے لوگ تھے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے مریضوں کا علاج خود کرتے تھے۔ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں لوہار کا کام کرتا تھا۔“ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے بیٹے ابراہیم کے قصہ میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ابراہیم کو مدینہ کی ایک لوہارہ عورت ام سیف کی طرف بھیجا۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ منبر والے قصہ میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے غلام کو حکم دے کہ وہ میرے بیٹھنے کے لیے منبر بنائے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے لیے چادر لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: ”یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اسے اپنے ہاتھ سے تیار کیا ہے تاکہ آپ کو پہناؤں۔“ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انصاریوں کا ایک آدمی تھا جس کا نام ابو شعیب تھا، اس کا غلام گوشت کا کام کرنے والا تھا۔ ایک روایت میں قصاب کے لفظ ہیں؛ اس نے کہا: ”کھانا تیار کرو تاکہ میں رسول اللہ ﷺ کو بلاؤں۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حرمتِ مکہ کے قصہ میں منقول ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! اذخر (بوٹی) کو چھوڑ دیں، داغنے کے لیے اور اپنی چھتوں کے لیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اذخر کو چھوڑ دیا جائے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سینگی لگوائی اور حجام کو اس کی اجرت دی۔ اگر یہ آپ کے نزدیک خبیث چیز ہوتی تو نہ دیتے اور یہ سارے آثار کمائی کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔