السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: من كره أخذ الأجرة عليه باب: اس شخص کا قول جس نے اس (قرآن) پر اجرت لینے کو مکروہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 11683
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ عَمْرٌو: قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ نُسَيٍّ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ عُبَادَةَ الصَّامِتِ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَالْأَوَّلُ أَتَمُّ، فَقُلْتُ: مَا تَرَى فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: " جَمْرَةٌ بَيْنَ كَتِفَيْكَ تَقَلَّدْتَهَا، أَوْ تَعَلَّقْتَهَا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو الْمُغِيرَةِ عَنِ بِشْرٍ، هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ كَمَا تَرَى، وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْهُ، وَرُوِي مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُنْقَطِعٍ عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگ کا انگارہ ہے جسے تو نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکایا ہے۔“
اس حدیث میں عبادہ بن نسی پر اختلاف ہے، اور سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہم کی حدیث سند کے لحاظ سے اس سے زیادہ صحیح ہے۔ اور یہ ایک دوسری منقطع سند سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔