السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الإجارة— اجارہ کا بیان
باب: لا تجوز الإجارة حتى تكون معلومة، وتكون الأجرة معلومة باب: اجارہ اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ کام معلوم نہ ہو اور اجرت متعین نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: وَثنا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، جَمِيعًا عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ، يَعْنِي عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَفِينَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ، فَانْطَلَقْتُ أَلْتَمِسُ الْمَعِيشَةَ، فَأَلْفَيْتُ قَوْمًا يُرِيدُونَ يَنْحَرُونَ جَزُورًا لَهُمْ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتُمْ كَفَيْتُكُمْ نَحْرَهَا وَعَمَلَهَا وَأَعْطُونِي مِنْهَا، فَفَعَلْتُ فَأَعْطَوْنِي مِنْهَا شَيْئًا، فَصَنَعْتُهُ ثُمَّ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلَنِي: مِنْ أَيْنَ هُوَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أُسْمِعُكَ قَدْ تَعَجَّلْتَ أَجْرَكَ، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَهَا، وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَرَكْتُهَا، قَالَ: ثُمَّ أَبْرَدُونِي فِي فَتْحٍ لَنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَاحِبُ الْجَزُورِ، وَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ: لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ " قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي هَذَا إِنَّ الْأُجْرَةَ كَانَتْ مَجْهُولَةً، وَفِي الذِّمَّةِ مُعَلَّقَةً بِعَيْنٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے جنگ کی اور ہمارے امیر سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ تھے اور ہم میں سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ ہمیں شدت کی بھوک لگی۔ میں چلا کہ کوئی کام تلاش کروں۔ میں نے ایک قوم کو پایا وہ اونٹ ذبح کرنا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں تمہارا یہ کام کر دیتا ہوں اور مجھے اس سے کچھ دے دینا۔ میں نے گوشت بنایا۔ پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ انہوں نے سوال کیا: یہ کہاں سے آیا ہے؟ میں نے بتایا تو انہوں نے کہا: تو نے اجرت میں جلدی کی ہے اور کھانے سے انکار کر دیا۔ پھر میں نے سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو بتایا تو انہوں نے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی بات کہی اور کھانے سے انکار کر دیا۔ میں نے یہ دیکھ کر اسے چھوڑ دیا، کہتے ہیں: پھر ہمیں فتح ملی تو میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اونٹ والے تم ہو“ اور مجھے کچھ نہ کہا۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں یہ بات ہے کہ اجرت مجہول تھی اور ذمہ میں چیز نقد تھی۔