السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: الشفعة بالجوار باب: پڑوس کی بنیاد پر شفعہ کا حق ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: سَمِعْنَا بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ يَقُولُ: نَخَافُ أَنْ لَا يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مَحْفُوظًا، قِيلَ لَهُ: وَمِنْ أَيْنَ قُلْتَ؟ قَالَ: إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَقَدْ رَوَى أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرٍ مُفَسَّرًا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الشُّفْعَةُ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ، فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ فَلَا شُفْعَةَ " وَأَبُو سَلَمَةَ مِنَ الْحُفَّاظِ، وَرَوَى أَبُو الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ جَابِرٍ مَا يُوَافِقُ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ وَيُخَالِفُ مَا رَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شفعہ اس چیز میں ہے جو تقسیم نہ ہوئی ہو، جب حدود واقع ہوجائیں تو حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ہم نے حدیث کا علم رکھنے والے بعض اہلِ علم کو یہ کہتے سنا: ہمیں اندیشہ ہے کہ یہ حدیث محفوظ نہ ہو۔ ان سے پوچھا گیا: آپ یہ کس بنا پر کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اسے (عبدالملک نے) صرف سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، جبکہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کا یہی فرمان وضاحت کے ساتھ روایت کیا ہے، اور ابو سلمہ حفاظ میں سے ہیں، اور ابو الزبیر نے بھی، جو حفاظ میں سے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے وہ روایت کیا ہے جو ابو سلمہ کی روایت کے موافق اور عبدالملک بن ابی سلیمان کی روایت کے خلاف ہے۔