السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: الشفعة بالجوار باب: پڑوس کی بنیاد پر شفعہ کا حق ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيِّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ: وَضَعَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ يَدَهُ هَذِهِ عَلَى مَنْكِبِي هَذَا، أَوْ هَذَا، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا سَعْدًا، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِيَّ اللَّذَيْنِ مِنْ دَارِهِ؟ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى أَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ إِمَّا مُقَطَّعَةً وَإِمَّا مُنَجَّمَةً، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: سُبْحَانَ اللهِ لَقَدْ مَنَعْتُهُمَا مِنْ خَمْسِمِائَةٍ نَقْدًا، فَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ " مَا بِعْتُكَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ بِمَعْنَاهُ. وَفِي سِيَاقِ هَذِهِ الْقِصَّةِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِي غَيْرِ الشُّفْعَةِ، وَأَنَّهُ إِنَّمَا أَرَادَ بِهِ أَنَّهُ أَحَقُّ بِأَنْ يَعْرِضَ عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِهِ، وَإِنْ أَرَادَ بِهِ الشُّفْعَةَ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَبُو رَافِعٍ فِيمَا رُوِيَ عَنْهُ مُتَطَوِّعٌ بِمَا صَنَعَ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ "، لَا يَحْتَمِلُ إِلَّا مَعْنَيَيْنِ لَا ثَالِثَ لَهُمَا، إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّ الشُّفْعَةَ لِكُلِّ جَارٍ، أَوْ أَرَادَ بَعْضَ الْجِيرَانِ دُونَ بَعْضٍ، وَقَدْ ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا شُفْعَةَ فِيمَا قُسِمَ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الشُّفْعَةَ لِلْجَارِ الَّذِي لَمْ يُقَاسِمْ دُونَ الْجَارِ الْمُقَاسِمِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَعَلَى هَذَا يُحْمَلُ مَا:.حضرت عمرو بن شريد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھا، میں ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے سیدنا مسور رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ ان سے نہیں کہتے کہ مجھ سے میرے دونوں گھر خرید لیں اپنے گھر کے لیے؟“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں چار سو درہم سے زیادہ نہ دوں گا اور قسطوں پر دوں گا۔“ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: ”سبحان اللہ! میں نے نقد پانچ سو درہم میں نہیں دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا کہ ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے“ تو میں تجھے کبھی فروخت نہ کرتا۔“
اس واقعہ کی روشنی میں دلیل ہے کہ خبر شفعہ کے علاوہ میں وارد ہوئی ہے اور اس نے ارادہ کیا کہ زیادہ حق اس کے پڑوسی کا ہے کہ اسے پیش کیا جائے اور آپ ﷺ کا فرمان کہ ”ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے“، اس کے دو معنی ہیں، تیسرا کوئی معنی نہیں ہے کہ آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ ہمسایہ کے لیے ہے یا آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ بعض ہمسایوں کے لیے ہے اور رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے کہ ”اس چیز میں شفعہ نہیں جو تقسیم کر دی جائے“۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ شفعہ اس ہمسائے کے لیے ہے جو تقسیم نہ کرے اور جو تقسیم کر دے اس میں حقِ شفعہ نہیں۔