السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: الشفعة فيما لم يقسم باب: اس چیز میں شفعہ کا بیان جو ابھی تقسیم نہ کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ⦗١٧٤⦘ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِذَا وَقَعَتِ السُّهْمَانُ فَلَا مُكَابَلَةَ " قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الْمُكَابَلَةُ تَكُونُ مِنَ الْحَبْسِ، يَقُولُ: إِذَا حُدَّتِ الْحُدُودُ فَلَا يُحْبَسُ أَحَدٌ عَنْ حَقِّهِ، وَأَصْلُ هَذَا مِنَ الْكَبْلِ وَهُوَ الْقَيْدُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَالَّذِي فِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنَ الْفِقْهِ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَرَى الشُّفْعَةَ لِلْجَارِ، إِنَّمَا يَرَاهَا لِلْخَلِيطِ الْمُشَارِكِ، وَهُوَ بَيِّنٌ فِي حَدِيثٍ لَهُ آخَرَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، الشَّكُّ مِنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، وَالَأرَفُ يَقْطَعُ كُلَّ شُفْعَةٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: الَأرَفُ: الْمَعَالِمُ وَقَالَ الْأَصْمَعِيُّ: هِيَ الْمَعَالِمُ وَالْحُدُودُ، قَالَ: وَهَذَا كَلَامُ أَهْلِ الْحِجَازِ، يُقَالُ مِنْهُ: أَرَفْتَ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا، إِذَا قَسَّمْتَهَا وَحَدَّدْتَهَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَقَوْلُهُ: لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ، أَظُنُّ الْفَحْلَ فَحْلَ النَّخْلِ، وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حصے واقع ہو جائیں تو کوئی قید نہیں ہے۔ اصمعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قید تو روکنے سے ہوتی ہے۔ جب حدود واقع ہو جائیں تو کسی کو اس کے حق سے روکا نہیں جا سکتا اور لفظ «الْكَبْلُ» سے مراد قید ہے۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ہمسائے کے لیے حقِ شفعہ کے قائل نہ تھے، وہ خیال کرتے تھے کہ حقِ شفعہ شریک کے لیے ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ بھی منقول ہے کہ شفعہ نہ کنویں میں ہے اور نہ سانڈ میں اور حد بندی ہر حقِ شفعہ کو ختم کر دیتی ہے۔ امام ابن ادریس شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ارف سے مراد نشانات ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ نشانات اور حدود ہیں، یہ اہل حجاز کا کلام ہے (اس میں سے) یہ بھی ہے «أَرَّفْتُ الدَّارَ وَالْأَرْضَ تَأْرِيفًا» ”جب میں نے اس کو تقسیم کر دیا اور اس کی حد بندی کر دی۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے «لَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فَحْلٍ» میں میرے گمان کے مطابق فحل سے مراد کھجور کا نر درخت ہے۔