السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشفعة— شفعہ کا بیان۔
باب: الشفعة فيما لم يقسم باب: اس چیز میں شفعہ کا بیان جو ابھی تقسیم نہ کی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 11567
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: قَالُوا لِأَبِي عَاصِمٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الشُّفْعَةِ، فَقَالَ: هَاتُوا مَنْ سَمِعَهُ مِنْ مَالِكٍ فِي الْوَقْتِ الَّذِي سَمِعْتُهُ أَنَا، قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ بِمَكَّةَ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ وَسَأَلُوهُ أَنْ يَأْمُرَ مَالِكًا أَنْ يُحَدِّثَهُمْ، فَأَمَرَهُ فَحَدَّثَ بِمَكَّةَ، فَسَمِعْنَا مِنْ مَالِكٍ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ..حافظ ثناء اللہ
علی بن نصر بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے ابو عاصم رحمہ اللہ سے ان کی اس حدیث کے بارے میں بات کی جو وہ امام مالک سے، وہ زہری سے، وہ سعید اور ابو سلمہ سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شفعہ کے بارے میں روایت کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اس شخص کو لاؤ جس نے مالک سے اس وقت سنا جب میں نے سنا، ہمارے پاس ابو جعفر منصور مکہ میں آئے، لوگ ان کے پاس جمع ہو گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ مالک کو حکم دیں کہ وہ ہمیں حدیث بیان کریں۔ انہوں نے حکم دیا تو مالک نے مکہ میں حدیث بیان کی اور ہم نے یہ حدیث مالک سے اس وقت سنی۔