السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الغصب— غصب کا بیان
باب: من أراق ما لا يحل الانتفاع به من الخمر وغيرها وكسر وعاءها باب: جس شخص نے شراب یا دیگر ایسی اشیاء بہا دیں جن سے نفع اٹھانا حلال نہیں اور ان کے برتن توڑ دیے۔
حدیث نمبر: 11552
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فُضَيْحٍ وَتَمْرٍ، فَجَاءَهُمْ آتٍ فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: يَا أَنَسُ، قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ فَاكْسِرْهَا، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں سیدنا ابو عبیدہ، سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی کھجور اور کھجور کی شراب پلایا کرتا تھا، اچانک ایک آنے والا آیا، اس نے خبر دی کہ شراب حرام ہو چکی ہے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے انس! اٹھو اور ان مٹکوں کو توڑ دو۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنی ایک اوکھلی کی طرف اٹھا اور اس کے نچلے حصے سے مٹکوں کو مارا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ گئے۔